آیا[3]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پہنچا ہوا، آیا ہوا۔ "اس وقت کو آیا سمجھو اور اس کے جواب کے لیے تیار ہو جاؤ۔"      ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٢٧ ) ٢ - (کسی کے پکارنے کے جواب میں) حاضر ہوا۔ (نوراللغات، 214:1) ١ - بطور معاون فعل مستعمل، حسب موقع 'آگیا' وغیرہ یا استمرار فعل کے معنی میں۔  عمر بھر نخل وفا میں برگ و بار آیا کیا اچھی صورت پر دل بے اختیار آیا کیا      ( ١٩٤٢ء، کلام فصیح دہلوی، ٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'آنا' سے 'صیغۂ ماضی مطلق' مشتق ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور متعلق فعل بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٤٣٥ء میں "کدم راؤ پدم راؤ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پہنچا ہوا، آیا ہوا۔ "اس وقت کو آیا سمجھو اور اس کے جواب کے لیے تیار ہو جاؤ۔"      ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٢٧ )

اصل لفظ: آنا
جنس: مذکر